یسوع مسیح کا صعود | ڈاکٹریوسف مسیح یاد - SUTLEJ TV

Breaking

Latest and Reliable News 24/7

Wednesday, May 09, 2018

یسوع مسیح کا صعود | ڈاکٹریوسف مسیح یاد


            یسوع مسیح اپنے وعدے کے مطابق تیسرے روز قبر سے جی اْٹھے۔اور پھر چالیس دن تک اپنے شاگردوں پر ظاہر ہوتے رہے۔انہوں  نے اْن  کے ذہنوں کو کھولاکہ وہ اْن کے بارے میں جو نوشتوں میں درج ہے اْسے اچھی طرح سمجھ سکیں۔پھر وہ اْن سے مددگار بھیجنے کا وعدہ کرکے صعود فرما گئے۔
اور وہ گیارہ شاگرد گلیل کے اْس پہاڑ پر گئے۔جو یسوع نے اْن کے لئے مقرر کیا تھا اوراْسے دیکھ کر سجدہ کیا۔ لیکن بعض نے شک کیا اور یسوع نے پاس آکر اْن سے باتیں کیں اور کہا کہ آسمان اور زمین پر سارا اختیار مجھے دے دیا گیاہے۔تم جاکر سب قوموں کو شاگرد بناؤ۔
تب وہ اْن کو باہر بیت عنیاہ کی طرف لے گیا اور اپنے ہاتھ اْٹھا کر اْن کو برکت دی اور یہ کہہ کر اْن کے دیکھتے اوپر اْٹھایا گیا اور بدلی نے اْسے اْن کی نظروں سے چھپا لیا۔
مقدس شہر یروشلیم قدیم دور میں چار پہاڑوں پر واقع تھااور اْس کے چاروں طرف پہاڑ بھی تھے۔ان پہاڑوں میں سے زیتون کا پہاڑ بہت مشہور ہے جو یروشلیم کے مشرق میں ایک ٹیڑھا ترچھا پہاڑ ہے۔جو کھر یا مٹی اور چونے کے پتھروں سے بنا ہے۔اسے قدرون کا نالہ شہر سے جد اکرتا ہے۔ قدرون قدیم دور میں زیتون کے گھنے درختوں سے ڈھکا ہوتا تھا۔ اِس لئے اسے زیتون کا پہاڑ کہتے ہیں۔گتسمنی باغ اِسی پہاڑ کی ڈھلوان پر واقع ہے۔یہاں آج بھی زیتون کے آٹھ درخت یسوع کے وقت کے موجود ہیں۔اِسی باغ میں یسوع مسیح نے دْکھ کرب کے چند گھنٹے گزارے۔اِسی پہاڑ پر خلدہ نبیہ کا مقبرہ۔صعود کا گرجا۔دعائے ربانی کا گرجا۔رسولی عقیدہ کا گرجا۔یسوع کے روزے کا مقام موجود ہیں۔اِس پہاڑ کی چار چوٹیاں جن کے نام ٹھوکر کا پہاڑ۔سکوپس کا پہاڑ۔وری گلائی کا پہاڑ اور یسوع کے صعود کے پہاڑ ہیں۔

……ٹھوکر کا پہاڑ
                        ٹھوکر کا پہاڑ وہ چوٹی ہے جو زیتون کے پہاڑ سے گہری گھاٹی کے باعث الگ تھلگ ہے۔جو وادی ہنوم کے ساتھ مغرب کے مقابل ہے۔بیت عنیاہ سے یسوع ایک پگڈنڈی سے ہوتے ہوئے یروشلیم آتے جاتے تھے۔اِسی راستے سے خداوند کھجوروں کے اتوار کے روز ایک جلوس کے ساتھ بیت فِگے سے یروشلیم آئے تھے۔

……سکوپس کا پہاڑ
                        رومیوں  نے اِس چوٹی کونگرانی کرنے والا پہاڑ کہا۔ یہ چوٹی زیتون  کے شمالی حصہ میں ہے۔
یہودی مورخ یوسیفس لکھتا ہے، اِسی چوٹی سے یروشلیم کا سارا منظر اور ہیکل کا ہرحصہ دکھائی دیتا تھا۔ اِس کے مشرقی حصہ میں رومیوں نے جنگ کا کیمپ بنایا تھا۔ یہاں یہوسفط کی وادی تھی۔ اِسی کے قریب قدرون کا نالہ بہتا ہوا بحیرہ ء مردارمیں جا گرتا تھا۔

……صعود کا پہاڑ
                        زیتون کے پہاڑ کا ذکر زیادہ تر عہدِجدید میں آیاہے۔
یہاں یسوع کی یروشلیم میں خدمت کی وجہ سے یہ پہاڑ مقدس بن گیا ہے۔
خداوند یسوع مسیح نے پہلی بار کوہ ء زیتون کی چوٹی ہی سے شہر کو دیکھاتھا۔انجیر کے درخت کے سوکھنے کا واقعہ اِسی کی ڈھلوان پر ظہور پذیر ہوا۔بلند ہونے کی وجہ سے اِس پہاڑ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔پھر یسوع کے یہاں تعلیم دینے کی وجہ سے یہ مقدس بن گیا ہے۔یہ صعود کی چوٹی بیت عنیاہ کے قریب ہی ہے۔اِس چوٹی پر جب یسوع رسولوں کو برکت دے رہے تھے تو آسمان پر اْٹھا لئے گئے۔ اِس چوٹی کو اب صعود کا پہاڑ کہتے ہیں۔

……وری گلائی کا پہاڑ
                           اس  کے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے اْن کے پاس آکھڑے ہوئے اور کہنے لگے، اے گلیلی مردو تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔یہی یسوع جو تمھارے پاس سے آسمان پراْٹھا یا گیا ہے، اس طرح پھر آئے گا۔ جس طرح تم  نے اْسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔
یسوع کے صعود کا ذکر اعمال، مرقس اور لوقا میں بڑی صفائی کے ساتھ درج ہے۔یسوع کے صعود کی پیشین گوئی ہمیں زبور میں مندرج ملتی ہے۔جو یسوع کے صعود ِ آسمانی سے پوری ہوگئی۔یہ صعود اْ ن کی زمینی خدمت اور آسمانی خدمت کے درمیان ہوا۔وہ بنی نوع انسان کو اْن کے گناہوں سے نجات دینے کے لئے کلوری کی صلیب پر مصلوب ہوئے۔اور اِس کے بعد باپ کے دہنے ہاتھ جا بیٹھے تاکہ وہاں سے ہماری شفاعت کریں۔
            صعود کا عقیدہ مسیحیت کے آغاز ہی سے کلیسیا ء کا جزو ایمان ہے اور رسولی عقیدے اور نقایاہ کے عقیدے میں ہمیں اسکا ذکر ملتا ہے۔جو غالباً چوتھی صدی مسیح میں معرضِ وجود میں آیا اور کلیسیاء کا عقیدہ بن گیا۔ اِس میں لکھا ہے، اور یسوع مسیح پر جو اْ س کا اکلوتا بیٹا اور ہمارا خداوند ہے اور تیسرے روز مردوں میں جی اْٹھا اور آسمان پر چڑھ گیا۔
      
  نقایاہ کا عقیدہ 325ءم میں نقایاہ کی کونسل میں مندرج ہوا۔ 
جو آج کل اکثر عبادت کے دوران پڑھا جاتا ہے۔اِس میں درج ہے
 اور تیسرے دن پاک نوشتوں کے مطابق جی اْٹھا اور آسمان پر چڑھ گیا اور باپ کے دہنے بیٹھا ہے وہ جلال  کے ساتھ زندوں اور مردوں کی عدالت کے لئے پھر آئیگا۔

مصنف کے بارے میں
ڈاکٹر یوسف مسیح یاد پاکستان کے نامورمسیحی لکھاری ہیں۔ 
آپ 1938ء میں پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔عمربھر ادبی خدمات سرانجام دیتے رہے اور20 مئی 2014ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔
 اِنکے مضامین پاکستان کے متعدد اردو رسالہ جات میں شاملِ اشاعت رہے ہیں۔ انکی کتب مسیحی بک شاپس پر دستیاب ہیں۔