مقدس پولس کی شہادت - SUTLEJ TV

Breaking

Latest and Reliable News 24/7

Monday, February 05, 2018

مقدس پولس کی شہادت



ڈاکٹر یوسف مسیح یاد مرحوم

مقدس پولس کا عبرانی نام ساؤل تھا جس کے معنی”مانگے ہوئے“ کے ہیں۔اِسی لفظ کے ایک اور معنی”بڑے“کے ہیں۔اعمال 9:13 میں اِنکا یہی نام درج ہے۔اِس کے بعد اْنہیں رومی نام پولس سے ہی یاد کیاجاتا ہے۔اپنے خطوط میں بھی وہ یہی نام استعمال کرتے ہیں۔پولس لاطینی لفظ پولوس کی یونانی شکل ہے جس کے معنی پہلے نام کی ضدیعنی”چھوٹے“ کی ہے۔
          یہ خدا کا حْسن انتظام تھا کہ مقدس پولس کی زندگی میں اْس زمانے کے تین عناصر یونانی ثقافت، رومی شہریت اور یہودی مذہب اْنہیں اپنے آباؤاجداد سے ورثہء میں ملا تھا۔مقدس پولس3ق م میں شہر ترسْس میں پیدا ہوئے۔ترسْس صوبہ کِلکیہ کا مشہور شہر تھا جہاں رومی اور یونانی تہذیب وتمدن آپس میں ملتے تھے۔اِسی وجہ سے ترسْس بڑا تجارتی اور مرکزی شہر بن گیا تھا یہ بکری کی پشم سے کپڑا بنانے کے لئے بہت مشہور تھا۔ پولس رسول کا یہی پیشہ تھا۔
          ابھی وہ بچے تھے اْن کی والدہ وفات پاگئی تھیں۔وہ روفن اور سکندر کی ماں کو اپنی والدہ کہتے ہیں۔یہ خاتون شمعون کرینی کی اہلیہ تھیں۔
مقدس پولس یہودی نسل سے تھے اور بہترین یہودی تعلیم وتربیت سے مزین تھے۔اس نے اعلیٰ تعلیم یروشلیم سے حاصل کی۔گملی ایل اْنکے اْستاد
تھے۔پہلے وہ کلیسیاء کوبہت ستاتے رہے مگر جب مسیح یسوع کو نجات دہندہ قبول کرلیا تو مسیحیت پھیلانے میں ہرممکن کوشش کی۔اْنہوں نے کلیسیاؤں میں بہت دورے کیے اور یسوع کے نام سے تکالیف برداشت کیں اور قید میں بھی رہے۔عہد جدید کی 27کتب میں سے13خطوط اْن کے ہیں جبکہ عبرانیوں کے خط کے بارے میں علماء کا خیال ہے کہ وہ انہوں نے نہیں لکھا۔
          شہادت سے پہلے مقدس پطرس اور مقدس پولس کو ایک ہی قیدخانہ میں رکھا گیا جسکا نام”ماہرتِینی“ تھا، اس زیرِزمین قیدخانہ کا ایک حصہ تو کاپتولینی پہاڑی کے نرم پتھروں کو کاٹ کربنایاگیا تھااور دوسرا حصہ انہی پتھروں کے ٹکڑوں کو جوڑ کرخالص چونے سے تعمیر کیا گیا تھا۔جن لوگوں کو اِس خوفناک جگہ پر قیدکیا جاتا تھا اْنہیں پتھروں میں ایک سوراخ کے ذریعے اِس قید خانہ میں اتارا جاتا تھااور داخلہ کے لئے صرف ایک یہی راستہ تھا۔یہ ایک زندہ مقبرہ کی مانندتھا جس میں سورج کی روشنی بھی نہیں پڑتی تھی اور ہوا کا گزربھی نہیں ہوتا تھا۔دونوں رسولوں کو سخت پتھرکے ستون کے ساتھ رنجیروں سے باندھ دیا گیا تھا۔
          یہ قید خانہ آج کھنڈرات کی صورت میں موجود ہے اور اْس میں ایک چشمہ بھی ہے۔روایت ہے کہ جب مقدس رسول اپنے ساتھی قیدیوں کوبپتسمہ دینا چاہتے تو یہ چشمہ بہنے لگتا۔اِس چشمہ سے کتناہی پانی بہہ جائے، پانی کی سطح آج بھی برقرار رہتی ہے۔


          قدیم روایت ہے کہ مقدس پطرس اور مقدس پولس کو29 جون67ء مسیح،میں ایک ہی روزشہید کیا گیا تھا۔مقدس پطرس رومی شہری نہیں تھے اْنہیں اْلٹا صلیب پر لٹکایا گیا۔مگر پولس رسول رومی شہری تھے لہذا اْنہیں صلیب نہیں دی جاسکتی تھی لہذا اْنہیں 29 جون67ء م میں 70سال کی عمر میں شہر سے باہر تلوار سے شہید کیا گیا۔جب اْنکا سر تلوار سے قلم کیا گیاتو آواز آئی! یسوع، یسوع، یسوع۔سر تین بار اْچھلا اور جس جس حصہء زمین پر لگا وہاں پانی کے چشمے نکل آئے آج وہاں تین چشموں والا گِرجہ ہے۔ روایت ہے کہ اْنہیں مقدس لوقیانہ خاتون نے بزرگوں کی مدد سے دفن کیا۔